وزیر اعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں پہلگام واقعے، علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کے اشتعال انگیز رویے پر جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف انہوں نے حالیہ پہلگام واقعے میں پاکستان کو بغیر کسی ثبوت کے ملوث کرنے کی بھارتی کوششوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر شفاف، بین الاقوامی اور غیرجانبدار تحقیقات کے لیے تیار ہے۔
شہبازشریف نے کہا پاکستان نے اس ضمن میں ملائیشیا کو بھی تحقیقات میں شمولیت کی دعوت دی ہے تاکہ حقائق کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اقدامات پاکستان کی مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصور بھی تباہ کن ہے، امریکی ارکان کانگریس کا انتباہ
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہا کہ پاکستان کسی بھی تنازعے میں ملوث نہیں ہونا چاہتا اور خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جلد ملائیشیا کا سرکاری دورہ کرنے کا عندیہ بھی دیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا، دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر مشاورت اور رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔





