ارشد مدنی نے کہا ہے کہ ’’یہ دریا ہزاروں سالوں سے بہہ رہے ہیں، اگر کوئی انہیں روکنا چاہتا ہے تو روک لے، لیکن یہ آسان نہیں، ان دریاؤں کا پانی کہاں لے جائیں گے؟
تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے پاکستان سے متعلق دریائی پانی کے معاملے پر بھارتی حکومت کے ممکنہ اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے ہم نوا نہیں بن سکتے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی کا کہنا تھا کہ ’’یہ دریا ہزاروں سالوں سے بہہ رہے ہیں، اگر کوئی انہیں روکنا چاہتا ہے تو روک لے، لیکن یہ آسان نہیں۔ ان دریاؤں کا پانی کہاں لے جائیں گے؟‘‘ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
مولانا مدنی کا کہنا تھا کہ بھارت میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں جو نفرت کو فروغ دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ملک میں محبت کا قانون ہونا چاہیے، نفرت کا نہیں۔ بدقسمتی سے بھارت کو جس راستے پر ڈال دیا گیا ہے، اگر وقت پر نہ روکا گیا تو مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے یہاں جینا مشکل ہو جائے گا۔‘‘
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اشاروں اور پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں یہ بیان نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔





