ایمل ولی خان نے پشاور ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مائنز بل پختونوں کی خودمختاری پر حملہ، حق نہ ملا تو بغاوت ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر ایمل ولی خان نے پشاور ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے مائنز اینڈ منرل بل کو پختونوں کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ اگر ہمارے وسائل پر اختیار نہ دیا گیا تو بغاوت کا اعلان کریں گے۔
پشاور ہائیکورٹ بار کی نومنتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ وکلاء اس مجوزہ بل کو بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ یہ قانونی اور آئینی پہلوؤں سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین ہماری ہے، یہاں کے وسائل بھی ہمارے ہیں اور ان پر حکمرانی کا حق صرف یہاں کے عوام کو حاصل ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ ’’باچا خان نے اس خطے کی آواز اٹھائی، ہم اسی نظریے پر قائم ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی خودمختاری کا اختیار عوامی جدوجہد سے ملا تھا، جو اب نااہل حکمرانوں کے ہاتھوں واپس لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سمندر کے نیچے موجود معدنیات وفاق کی ملکیت ہیں لیکن زمین میں موجود معدنیات کا اختیار آئینی طور پر صوبوں کو حاصل ہے، تاہم مائنز اینڈ منرل بل کے ذریعے اس اختیار پر بھی ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایمل ولی خان نے انکشاف کیا کہ وزیرستان، پارا چنار اور دیگر علاقوں میں موجود قیمتی قدرتی وسائل کو مقامی عوام سے چھین کر باہر لے جایا جا رہا ہے اور ان علاقوں کے عوام کو ترقی اور سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ’’میرے پاس کوئی مائنز نہیں، میں مفادات کے لیے نہیں نظریے کے لیے لڑ رہا ہوں،
انہوں نے کہا کہ سندھ میں پانی کے مسئلے پر وکلاء نے بھرپور قانونی جنگ لڑی، ہمیں بھی اپنے وسائل کے لیے اسی جذبے سے کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر اٹھارویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل نہ ہوا تو ہم ہر فورم پر مزاحمت کریں گے۔
’’انگریزوں کی غلامی نہیں مانی، تو ان کے غلاموں کی بھی غلامی نہیں کریں گے،‘‘ سینیٹر ایمل ولی خان کا دوٹوک اعلان۔





