بھارتی جارحیت کے بعد خیبرپختونخوا میں ہائی الرٹ، تمام اداروں کو تیار رہنے کا حکم

بھارتی جارحیت کے بعد خیبرپختونخوا میں ہائی الرٹ، تمام اداروں کو تیار رہنے کا حکم

تمام محکموں اور انتظامی عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور انہیں آئندہ احکامات تک اسٹیشن نہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے ممکنہ جارحیت کے پیش نظر خیبرپختونخوا حکومت نے فوری طور پر صوبے بھر میں ہنگامی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کی ہدایات پر تمام فیلڈ فارمیشنز، ایمرجنسی سروسز، اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق تمام ضلعی ایمرجنسی کوآرڈینیشن کمیٹیوں کو فعال کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ان کمیٹیوں میں پولیس، محکمہ صحت، بلدیاتی ادارے، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، تعلیم اور میڈیا فوکل پرسنز شامل ہوں گے۔ ہر تحصیل میں مخصوص پناہ گاہوں، اسکولوں، کمیونٹی ہالز اور مساجد کی نشاندہی کر کے انہیں تیار رکھا جا رہا ہے۔

احکامات میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی ریلیف کٹس میں راشن، ادویات، بستروں اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ عوامی ریکارڈز اور ایندھن کے ذخائر کی حفاظت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ صوبے بھر کے تمام سرکاری محکموں کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے انہیں آئندہ احکامات تک اسٹیشن نہ چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ایمبولینسز، فائر بریگیڈ، واٹر ریسکیو یونٹس کو مکمل طور پر آپریشنل رکھا گیا ہے جبکہ ہائی رسک علاقوں میں فوری ردعمل کی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔ سول ڈیفنس کے اشتراک سے مشقی ریہرسل، فضائی حملے کے سائرن، بلیک آؤٹ پروٹوکولز، اور شہری رضاکار نیٹ ورکس کو بھی فوری طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔

تمام اسپتالوں، بنیادی صحت مراکز اور ٹراما سینٹرز کو ایمرجنسی ریسپانس کے تحت تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ادویات، سرجیکل کٹس، خون کی یونٹس اور ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی ماہرین کی ٹیمیں بھی تیار رکھی جائیں گی۔

علاوہ ازیں، تمام غیر ضروری اجتماعات، کھیلوں کی سرگرمیاں اور تعلیمی تقاریب معطل کر دی گئی ہیں۔ اسکولوں میں سول ڈیفنس آگاہی سیشنز اور پمفلٹس کی تقسیم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

محکمہ داخلہ نے حساس مقامات جیسے پل، گرڈ اسٹیشنز، ایندھن اسٹیشنز اور فوجی تنصیبات کے قریب سیکیورٹی سخت کرنے اور گشت میں اضافہ کرنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنرز کو اشیائے خوردونوش کی دستیابی کی نگرانی کا حکم دیا گیا ہے۔

Scroll to Top