وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کل رات پاکستان کو عظیم فتح عطا کی۔
قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہ 22اپریل کو پہلگام میں افسوسناک واقعہ ہوا مگر ہندوستان نے دس منٹ کے اندر ایف آئی آررجسٹرڈکی اور اس کے بعد ہندوستان کی میڈیا ،اینکراور سیاستدانوں نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی اور پوری دنیا کو یہ باور کرنے کی کوشش کی کہ خدانخواستہ اس واقعے میں پاکستان ملوث ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے کچھ ہی عرصہ پہلے بلوچستان میں دہشت گردوں نےٹرین ہائی جیک کی اور اس میں بی ایل اے کے ساتھ ٹی ٹی پی اور ان کے بیکر حمایتی ہندوستان کے ساتھ تانے بانے ملتے تھے جس کا ناقابل تردید ثبوت ہمارے پاس موجودہے اس واقعے میں درجنوں لوگ شہید ہوئے اورہمارے فوج کے ایس ایس جی یونٹ نے کمال مہارت سے ان معصوم پاکستانیوں کی جانیں بچائیں اور ان کو محفو ظ مقام پرپہنچایا ،کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے لیکن ہندوستان کو اس واقعے کے مذمت کی توفیق نصیب تو نہ ہوئی ۔انہوں نے جس سنگ دلی کے ساتھ اس واقعے کا مذاق اڑایا وہ تاریخ میں ہمیشہ بدترین الفاظ میں یادرکھا جائیگا۔
شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعدمیری اور ڈپٹی پرائم منسٹرکی دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان سے ان کے اہم عہدوں پر فائز لوگوں کے ساتھ گفتگو ہوئی ۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی برطانوی فوج کے سربراہ سے ملاقات ہوئی ۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ میں نے کاکول میں واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کا اس واقعے کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر کسی کو شک ہے تو ایک بین القوامی کمیشن قائم کرنے کی آفر کرتے ہیں جوانتہائی شفاف طریقے سے اس واقعے کی تحقیقات کریں، پاکستان پوری طرح اس کمیشن کے ساتھ تعاون کریگا اور پھر دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائیگا لیکن کل تک ہندوستان نے ہماری اس آفر کو قبول نہیں کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہرروز اطلاع ملتی تھی کہ آج ہندوستا ن کے جہاز آئیں گے اور وہ پاکستان پر حملہ آور ہوں گے ۔میںدل کی گہرایوں سے پوری ایوان اورپاکستان کے 24کروڑ عوام کو مبارک باد پیش کرنا چاہتاہوں کہ ہمار ی افواج 24گھنٹے تیار تھی کہ کب دشمن کے جہاز اڑیں اور کب ہم ان کو سمندر میں پھینک دیں ۔
آج سے چند دن پہلے بھارت کے رافیل جہاں سے حملہ کرنے کیلئے اڑے وہاں سے ہماری فضائیہ کے عقابوں نے ان لاک کردیا اور واپس جانے پر مجبور ہوگئے میں ،پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر بابر کو پاکستان کے 24کروڑ عوام کی طرف سے سلام پیش کرتاہوں کہ ان کے عقابوں نے ہندوستان کے جہازوں کی کمیونیکشن لاک کردی ۔ یہ ہے افواج پاکستان کی تیاری ۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں لمحہ با لمحہ خبریں مل رہی تھی کہ ہندوستان کے کیا عزائم تھے کل رات ہندوستان نے پوری تیاری کے ساتھ جس میں 80کے قریب جہاز شریک تھے انہوں نے پاکستان میں چھ شہروں پر حملہ کیا جس میں آزاد کشمیر ،بہاول پور،شیخو پوا ،سیالکوٹ اور شکر گڑھ شامل ہیں۔پاکستان کے عقاب مکمل تیاری میں تھے جوں ہی ہندوستا ن کے جہازوں بمباری کی ہماری عقاب جھپٹے اور پانچ جہاز جن میں 3رافیل شامل ہیں کو مارگرایااند ھے منہ وہ کشمیر بھٹنڈامیں جا گرے۔ اور دو ڈرون گرائے اس سے بڑی عزت نہیں مل سکتی ہم اس کا شکر کھبی بھی ادا نہیں کرسکتے ۔
انہوں نے کہاکہ جو لوگ کہتے تھے کہ ہندوستان نے پاکستان کو کونوینشنل وار فیرمیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے کل رات ان کے ہوش ٹھکانے آگیا ہے اور ان کو پتہ چل گیا کہ پاکستان کونوینشل بھی اور نیوکلیئر طاقت بھی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کو کل نیند نہیں آئی اور ہمارے دوستوں کو پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان واقعی ایسا ملک ہے جس کی فوج ایک ایسی فولادی فوج ہے کہ کل کوخدانخواستہ ان پر برا وقت آیا تو وہ پاکستان کی طرف مدد کیلئے دیکھ گے اور درخواست کریں گے اس سے بڑی پاکستان کو عزت نہیں مل سکتی ۔
ٓوزیراعظم نے کہا کہ آج میں نے صدرمملکت نے اور آرمی چیف نے ایک جنازے میں شرکت کرنی ہے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ پاکستان کی عوام اپنے شہیدوں جنہوں نے اپنے خون کے ساتھ پاکستان کی آبیاری کی ہےاور جنہوں نےاپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی اپنے بچوں کو یتیم کرگئے لاکھوں بچوں کو یتم ہونے سے بچا گئے لاکھوں ماووں کو بیوا ہونے سے بچا گئے ،آج ہم ان سپہ سلاروں کو،افسروں اور سپاہیوں کو سلام پیش کریں کہ یہ پاکستان کے ہیرو ز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کے 75 سے 80 جیٹ فائٹرز نے پاکستان پر حملہ کیا، اسحاق ڈار
وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کل کے واقعےمیں پاکستان اللہ تعالی نے جو عظیم فتح عطا فرمائی اس کی وجہ انتہائی پائے کی تیاری ،پروفیشنلزم ،جذبہ قربانی ،جذبہ حب الوطنی کے ساتھ ساتھ بری فوج،بحری فوج اور فضائیہ کے افسران اور سپاہی یک جان اور دو قلب تھے۔انہوں نے دن رات مشاورت کی اور پلاننگ کی ۔یہ پانچ جہاز جو ہمارے شاہینوں نے گرائے یہ پانچ جہاز دس ہوجاتے لیکن ہمارے ہوابازوں اور ہمارے شاہینوں نے احتیاط سے کام لیا۔





