پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطہ

پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطہ

پاکستان کی فضائیہ نے بھارت کے فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچایا، خاص طور پر جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے ذریعے ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم موڑ آیا ہے جب پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان نے بھارتی ایئر بیسز اور اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں ادھم پور، آدام پور، پٹھان کوٹ ایئر بیسز، فضائی دفاعی نظام ایس 400، اور بھارتی فوجی چیک پوسٹوں کا بھرپور حملہ کیا گیا۔ پاکستان نے بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی الیکٹرک کمپنی پر سائبر حملہ بھی کیا جس کے نتیجے میں بھارتی بجلی کا نظام مکمل طور پر جام ہو گیا۔

پاکستان کی فضائیہ نے بھارت کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا، خاص طور پر جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے ذریعے ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ پاکستانی ڈرونز نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات میں کئی گھنٹوں تک پرواز کی، اور بھارت کے مختلف ایئر فیلڈز بشمول بھٹنڈا اور سرسہ کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

بھارتی میڈیا اور حکومت نے ابتدا میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی تردید کی اور یہ افواہیں پھیلائیں کہ بھارت نے پاکستان کے ایف 16 طیارے تباہ کر دیے ہیں اور مختلف پاکستانی شہروں پر حملے کیے ہیں۔ تاہم، بھارتی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان کی کارروائیوں کا اعتراف کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ پاکستان نے پنجاب میں فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کے لیے تیز رفتار میزائل کا استعمال کیا اور بھارت کے فوجی اڈوں پر ساز و سامان اور عملے کو نقصان پہنچا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے رابطہ کیا اور بھارت کے ساتھ جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی درخواست کی۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ اگر بھارت کشیدگی کو روکنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان بھی کارروائی روکنے کے لیے تیار ہے، تاہم اگر بھارت نے مزید اشتعال انگیزی کی تو پاکستان کا ردعمل اس سے بھی زیادہ شدید ہوگا۔

اس دوران اطلاعات ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان رابطہ ہوا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیشرفت ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top