ہراسگی ثابت ہونے پراسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاورکا اسسٹنٹ پروفیسر برطرف

سلمان یوسفزئی 

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں ہراسگی کے ایک واقعے میں انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر کو قصوروار ٹھہرا کر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

اس حوالے سے خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں بتایا کہ یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے متعلقہ پروفیسر کے خلاف ہراسگی کی شکایت انتظامیہ کو دی تھی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی قائم کی گئی اور ابتدائی مرحلے میں ہی مذکورہ پروفیسر کو معطل کر دیا گیا تھا۔

مینا خان آفرید ی کے مطابق انکوائری کمیٹی کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہونے پر یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ نے پروفیسر کی برطرفی کی منظوری دی۔

یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ،کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پرشکریہ ادا کیا

وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہراسگی کے خلاف “زیرو ٹالرنس” پالیسی پر سختی سے عمل جاری ہے، اور یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے واقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

Scroll to Top