فنانس ڈویژن کی جانب سے42ارب روپے کی عدم ادائیگی پر خیبرپختونخوا میں مالیاتی بحران کے اثرات بڑھنے لگے

محمدا عجا زآفریدی

پشاور:فنانس ڈویژن کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کو این ایف سی کے تحت فروری تا اپریل کی ڈیفرنشل رقم ادا نہ ہونے پرخیبرپختونخوا مالیاتی بحران کی طرف بڑھ رہاہے ۔

بتایا جاتاہے کہ فروری تا اپریل این ایف سی شیئر میں فنانس ڈویژن نے خیبرپختونخوا حکومت کو 42 ارب روپے کم دئیے ہیں جس سے صوبہ کے مالیاتی نظام پر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

اس سلسلے میں مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیاہے کہ فروری تا اپریل کے دورانیہ میں فیڈر ل بورڈ آف ریونیو نے 9 ہزار 300 ارب روپے جمع کئے ہیں جس میں خیبرپختونخوا حکومت کا حصہ 849 ارب روپے بنتا ہے تاہم فنانس ڈویژن نے 849 ارب روپے کی بجائے خیبرپختونخوا کو 803 ارب روپے منتقل کردئیے ہیں جس میں تقریبا42 ارب روپے کی شارٹ فال ہے۔

خط میں کہا گیاہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے فنانس ڈویژن کو باربار درخواستیں کی ہیںکہ وہ باقی ماندہ رقم فوری طورپر ادا کرے تاہم فنانس ڈویژن نے یہ رقم تاحال ادا نہیں کی ، جس کی وجہ سے صوبہ پر مالیاتی بحران کے اثرات پڑ رہے ہیں۔

ملزم اسلم کی جانب لکھے گئے خط میں کہا گیاہے کہ وفاقی حکومت فنانس ڈویژن کو ہدایات جاری کرے کہ فنانس ڈویژن فوری طورپر خیبرپختونخوا کی بقایا 42 ارب روپے جاری کرے تاکہ خیبرپختونخوا مالیاتی بحران سے نکل سکے۔

Scroll to Top