مالاکنڈ ڈویژن: علاقے کے عوام اور سیاسی رہنماؤں نے مالاکنڈ ڈویژن میں کسی بھی قسم کے نئے ٹیکس کے نفاذ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ عوام پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور ٹیکس کا نفاذ مزید ذہنی اذیت اور مشکلات کا باعث بنے گا۔
علاقائی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ٹیکس کے خلاف ان کا موقف یکساں ہے اور وہ اس سلسلے میں متحد ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر وزیر اعلیٰ کے مشیر علی امین گنڈاپور کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ عوام کے اس موقف کی مخالفت یا غداری کرتے ہیں تو وہ بہت جلد اپنی عہدے سے محروم ہو جائیں گے۔
عوامی جلسوں اور اجلاسوں میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومتی اقدامات سے پہلے بنیادی مسائل کا حل یقینی بنایا جائے تاکہ لوگ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : بجٹ 2025-26، قبائلی اضلاع میں تیار اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
مالاکنڈ کے عوام نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی رائے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ٹیکس لگانے کے بجائے عوامی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جائیں۔





