پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیر اہتمام ایک اہم فکری اور علمی نشست ’’ہلال ٹاکس 2025‘‘ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے
تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیر اہتمام ایک اہم فکری اور علمی نشست ’’ہلال ٹاکس 2025‘‘ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس فکری پروگرام میں ملک بھر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 1950 اساتذہ کرام شریک ہو رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی منفی پروپیگنڈا مہمات اور ملک دشمن عناصر کے حربوں سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔
شرکاء نے اس نشست کو نہایت مؤثر، معلوماتی اور بصیرت افروز قرار دیا۔ پروگرام میں پاک فوج کی ساخت، کردار، اور طریقۂ کار کو قریب سے سمجھنے کے مواقع فراہم کیے گئے، جنہیں شرکاء نے سراہا۔ کئی ممتاز اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے اس موقع پر اظہارِ خیال کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پروگرام کے دوران دہشتگردی، بلوچستان کی صورتحال، ففتھ جنریشن وارفیئر اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال جیسے اہم موضوعات پر مدلل اور جامع جوابات دیے، جنہیں حاضرین نے بے حد مفید قرار دیا۔
ڈاکٹر سندس مستقیم (نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی) نے کہا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین کی موجودگی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
ڈاکٹر عبدالقدوس صوہیب (ڈائریکٹر، بی زی یو) نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی بلوچستان اور دہشتگردی پر گفتگو کو متاثر کن قرار دیا۔
ڈاکٹر سرینہ احسان (کنئیرڈ کالج فار وومن) کے مطابق سیشنز میں ففتھ جنریشن وار اور سوشل میڈیا پر انتہائی اہم معلومات فراہم کی گئیں۔
ایم نبی اللہ (ڈائریکٹر، قراقرم یونیورسٹی) نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے پاک فوج کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوئیں۔
فرح فیصل (لیکچرار، یونیورسٹی آف گوادر) نے کہا کہ سوشل میڈیا کو فیک نیوز اور غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے تدارک کے لیے ایسے سیشنز ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر امتیاز عوان (آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی) نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کا بیانیہ موثر انداز میں پیش کیا۔
’’ہلال ٹاکس 2025‘‘ نہ صرف ملک کے اساتذہ کو فکری محاذ پر تیار کر رہا ہے، بلکہ قومی یکجہتی، سچائی پر مبنی بیانیے کی ترویج اور سوشل میڈیا پر درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی ذہنی طور پر مضبوط بنا رہا ہے۔





