پی ٹی آئی نے تعلیم کو نظرانداز کیا، اساتذہ چندوں سے اسکول چلا رہے ہیں،سردار حسین بابک

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور عمران خان کی خیبر پختونخوا میں حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔

سردار حسین بابک کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے 2013 میں اقتدار سنبھالا، مگر تعلیمی شعبے میں کوئی قابلِ ذکر اصلاحات نہیں کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں تعلیم کے حوالے سے جتنے بھی بنیادی اور عملی اصلاحاتی اقدامات کیے گئے، وہ اے این پی کے دور حکومت میں ہوئے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اسکولوں کو فنڈز نہیں دیے جا رہے اور اساتذہ چندوں کے ذریعے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سابق وزیر تعلیم نے صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دن دہاڑے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری جیسے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

ان کے مطابق یہ مرکزی اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کریں۔

ڈروں حملوں کے حوالے سے اے این پی رہنما نے صوبائی حکومت کے بیانات میں تضاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اے این پی کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : زبیر ارشد کو پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر خیبرپختونخوا کا اضافی چارج دے دیا گیا

لیکن خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان انہیں خوارج قرار دے رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ ان حملوں کی بندش کی بات کرتے ہیں۔ سردار بابک نے کہا کہ ایسے متضاد بیانات سے عوام کنفیوژن کا شکار ہو رہے ہیں اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ حکومت کا مؤقف آخر کیا ہے۔

سردار حسین بابک نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تعلیم، سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی جیسے حساس امور پر سنجیدہ اور یکساں مؤقف اپنائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

Scroll to Top