خیبر پختونخوا پورے ملک کی جنگ لڑ رہا ہے، لیکن سی ٹی ڈی کے پاس وسائل نہیں ،فدا عدیل کا انکشاف

پشاور :سینئر صحافی فدا عدیل نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ ریاستی پالیسی اب ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے سمجھ لیا ہے کہ اگر افغانستان کو ترقی کرنی ہے تو یہ صرف خطے کے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ کسی دور دراز ملک کے مفادات کا حصہ بن کر۔

فدا عدیل کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اب اس پالیسی کے حامی ہیں کہ افغانستان کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کیا جائے، بالخصوص پاکستان کے خلاف۔ ان کے مطابق طالبان کی قیادت اب اس بات کو سمجھ چکی ہے کہ اگر افغانستان کو خطے میں امن و استحکام کا مرکز بنانا ہے تو خطے کے ممالک سے تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) کی حالت زار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، مگر بدقسمتی سے ان کے پاس مطلوبہ ہتھیار اور آلات موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کی سالانہ رپورٹ جاری

ان کے مطابق خیبر پختونخوا وہ صوبہ ہے جو پورے ملک کی سیکیورٹی کے لیے فرنٹ لائن پر ہے، لیکن ریاستی سطح پر ضروری توجہ نہیں دی جا رہی۔

فدا عدیل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ، تربیت اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

Scroll to Top