پشاور: پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے ترجمان ملک عدیل اقبال نے کہا ہے کہ بجٹ کی منظوری سے قبل وزیراعلیٰ نے تمام ایم پی ایز سے مشاورت کی، اور شاید یہ پہلا موقع تھا جب تمام اراکین اسمبلی کی تجاویز کو شامل کیا گیا۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ملک عدیل اقبال نے واضح کیا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کی جانب سے بجٹ روکنے کا کوئی باضابطہ حکم موصول نہیں ہوا۔ نہ چیئرمین کی طرف سے اور نہ ہی سیکرٹری جنرل کی جانب سے کوئی ہدایت دی گئی کہ بجٹ پیش نہ کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو بجٹ پیش کرتا ہے اُسے بھی غدار کہا جاتا ہے اور جو نہیں کرتا اسے بھی، یہ ایک کنفیوژن کی کیفیت ہے۔ اگر خان صاحب کا حکم ہوتا کہ اسمبلی توڑ دی جائے تو بجٹ خودبخود ختم ہو جاتا۔
ملک عدیل اقبال کے مطابق اگر بجٹ پیش نہ کیا جاتا تو یہ عدم اعتماد کے مترادف ہوتا، جس کے نتیجے میں اسمبلی تحلیل ہو سکتی تھی۔ یہ ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا جس سے بچنے کے لیے پارٹی قیادت نے مشاورت کا راستہ اختیار کیا۔ اپوزیشن کی یہی خواہش تھی کہ بجٹ پاس نہ ہو اور حکومت ختم ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیں : بجٹ منظوری سے قبل قیادت خاموش رہی، ہمیں کچھ بھی نہیں بتایا گیا، جنید اکبر
ترجمان نے اس مؤقف کو دہرایا کہ بجٹ کی منظوری کسی بدنیتی کے تحت نہیں بلکہ سیاسی بصیرت کے تحت کی گئی تاکہ صوبے میں سیاسی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔





