یونیسف اور سوشل ویلفیئر کے اشتراک سے پشاور میں چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن اور سینٹر قائم

پشاور: بچوں کے تحفظ کے لیے یونیسف اور خیبرپختونخوا سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے پہلی بار پشاور میں چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن اور ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ بچوں کے ساتھ تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف کارروائی، معاونت اور آگاہی کا اہم ذریعہ ہوگا۔

وزیر سوشل ویلفیئر قاسم علی شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا پورے پاکستان میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ میں سرِ فہرست ہے۔

صوبے میں 34 ہزار سے زائد کیسز کا مؤثر حل نکالا جا چکا ہے اور اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں اس حوالے سے قوانین یا ان پر عمل کا فقدان ہے۔

نیا قائم کردہ چائلڈ پروٹیکشن سینٹر بچوں اور متاثرہ افراد کے لیے ایک مکمل سہولت ہے جہاں ہیلپ لائن 1121 کے ذریعے فوری رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اس سینٹر پر کونسلرز، وکلاء اور فیلڈ ٹیمیں کام کر رہی ہیں جو متاثرہ بچوں کے گھروں تک جا کر ان کی مدد کرتی ہیں اور ضروری صورت میں انہیں سنٹر میں لے کر آ کر کونسلنگ فراہم کرتی ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ فی الحال خیبرپختونخوا میں 21 ایسے سینٹرز کام کر رہے ہیں اور ڈی آئی خان میں ایک نیا سینٹر جلد قائم کیا جائے گا۔ اس سال مزید 5 سینٹرز کے قیام کا منصوبہ ہے تاکہ ہر ضلع میں کم از کم ایک چائلڈ پروٹیکشن سینٹر موجود ہو۔

یہ بھی پڑھیں : الیکشن کمیشن نے عمر ایوب خان کی نااہلی ریفرنس کی سماعت یکم جولائی کو مقرر کر دی

یہ مرکز نہ صرف سرکاری اداروں بلکہ سول سوسائٹی اور سوشل ورک کے طلبہ کو بھی کیس اسٹڈیز اور مباحثوں کے ذریعے بچوں کے تحفظ کے قوانین کی بہتری میں کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ اس قدم کو ملک میں بچوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top