سوات: دریائے سوات میں حالیہ سیلاب کے بعد ضلعی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت دریائے کنارے واقع ہوٹلوں کے خلاف کارروائی شروع کی، تاہم مقامی ہوٹل کو سیل کرنے کی کوشش پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کارروائی کے لیے مقامی ہوٹل پہنافچے، تاہم مقامی افراد نے ان کا گھیراؤ کر لیا جس کے باعث انہیں ہوٹل سیل کیے بغیر واپس جانا پڑا۔
ذرائع کے مطابق مقامی افراد اور سیاحوں نے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور شدید نعرے بازی کی۔
دوسری جانب ریسکیو حکام کے مطابق دریائے سوات میں سیلابی ریلے سے اب تک 9 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جب کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 3 اور مردان کے 2 سیاح تاحال لاپتہ ہیں۔ ترجمان ریسکیو کے مطابق مجموعی طور پر 5 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
ریسکیو حکام نے مزید بتایا کہ پانی کے تیز بہاؤ اور اندھیرے کے باعث ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جو صبح دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : سانحہ سوات: چیف سیکرٹری کی ہدایت پر فلیش فلڈ انکوائری کمیٹی قائم
ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی کے تیز بہاؤ کے پیش نظر دریائے سوات کے قریب جانے سے گریز کریں، تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہوٹلوں اور دیگر عمارتوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔





