پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے موجودہ حکومت اور انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے بجٹ، یونیورسٹی تقرریوں اور سوات واقعے سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ بجٹ صرف ہیرا پھیری اور الفاظ کی جادوگری ہے، حکومت کی نیت ہی بجٹ پیش کرنے کی نہیں تھی۔
پہلے کہہ رہے تھے بجٹ نہیں دیں گے، پھر اچانک ایک ڈھیری رکھ کر بجٹ پاس کر دیا گیا۔ اب وہ صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے بانی کب اور کیا احکامات جاری کرتے ہیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کی جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ہم بہت خوش تھے کہ وائس چانسلرز کا تقرر ہو رہا ہے، مگر ان تعیناتیوں میں بھی رشوت کی مانگ اور ادائیگی کی اطلاعات ہیں۔
سوات واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دفعہ 144 نافذ تھی، الرٹ جاری تھا، تو حفاظتی اقدامات کیوں نہ کیے گئے؟ غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟
یہ بھی پڑھیں : سوات واقعہ حکومت اور مقامی انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اجمل وزیر
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، فنڈز، افسران اور متعلقہ محکمے سب موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جب بجٹ میں قدرتی آفات کے لیے رقم مختص کی جاتی ہے تو اس کا بروقت استعمال کیوں نہیں کیا جاتا۔





