مخصوص نشستوں پر عدالتی فیصلہ، کے پی میں اپوزیشن متحرک مگر حکومت تاحال محفوظ

مخصوص نشستوں پر عدالتی فیصلہ، کے پی میں اپوزیشن متحرک مگر حکومت تاحال محفوظ

سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود صوبائی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت ہے۔

پشاور (کاشف الدین سید )خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف ریکوزیشن کی پوزیشن میں آگئیں ۔ سپریم کورٹ آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد اپوزیشن کی تعداد 53ہوجائیگی،پارلیمنٹ کی مخصوص نشستوں سے متعلق آئینی بنچ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال کر کے تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں سے محروم کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کو تمام مخصوص نشستیں ملنے کے بعد بھی پاکستان تحریک انصاف کے پاس خیبر پختونخوا حکومت چلانے کیلئے واضح اکثریت موجود ہے تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر بھی خیبر پختونخوا حکومت کو نہیں گرا سکتیں البتہ حکومتی جماعت کے 35ممبران آزاد حیثیت سے موجود ہیں ان کی بے وفائی کی صورت میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی سب سے بڑی جماعت ہے جس کے 92ممبران ایوان میں موجود ہیں 145ممبران کے ایوان میں حکومت چلانے کیلئے 73ممبران کی حمایت درکار ہے ایسے میں تحریک انصاف کے پاس اضافی 19ممبران کی حمایت موجود ہے

متفقہ اپوزیشن کی کل تعداد 53بنتی ہے جس میں سب سے زیادہ جمعیت علماءاسلام کے ممبران کی تعداد 18، مسلم لیگ ن کے ممبران کی تعداد17، پیپلز پارٹی کے 11، عوامی نیشنل پارٹی کے ممبران کی تعداد3 جبکہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے ممبران کی تعداد3 ہوگئی ہے کرم سے منتخب آزاد رکن علی ہادی بھی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت کو ایوان میں موجود نمبرز سے کوئی مشکل نہیں ہے تاہم خیبر پختونخوا حکومت کے 35ممبران ایوان میں آزاد حیثیت سے موجود ہیں ان میں 19ممبران نے بے وفائی کی تو پی ٹی آئی کیلئے حکومت بچانا مشکل ہوجائیگا۔

دوسری جانب حزب اختلاف اب صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ جس سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

Scroll to Top