ریسکیو ٹیم موقع پر 15 منٹ میں پہنچ گئی تھی لیکن وقت کم اور پانی کا بہاؤ تیز تھا، ڈی جی ریسکیوخیبر پختونخوا

ریسکیو ٹیم موقع پر 15 منٹ میں پہنچ گئی تھی لیکن وقت کم اور پانی کا بہاؤ تیز تھا، ڈی جی ریسکیوخیبر پختونخوا

سوات میں پیش آنے والے حالیہ افسوسناک واقعے پر ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا شاہ فہد نے نجی ٹی وی چینل (سماء) سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں اطلاع ملنے کے صرف 15 منٹ بعد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں، مگر پانی کا بہاؤ اس قدر تیز اور وقت اتنا کم تھا کہ صرف تین افراد کو ہی زندہ بچایا جا سکا۔

ڈی جی ریسکیو شاہ فہد کے مطابق، انہیں پہلی اطلاع صبح 9 بج کر 49 منٹ پر موصول ہوئی، جسے ابتدائی طور پر میڈیکل ایمرجنسی سمجھ کر ایمبولینس روانہ کی گئی جو 9:56 پر پہنچ گئی۔ جائے وقوعہ پر پہنچ کر جب معلوم ہوا کہ معاملہ واٹر ریسکیو کا ہے تو متعلقہ ٹیم کو روانہ کیا گیا، جو بھاری گاڑی ہونے کے باعث کچھ دیر بعد پہنچی۔

انہوں نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے آمدورفت میں مشکلات پیش آئیں اور ریسکیو آپریشن کے دوران پانی کا بہاؤ انتہائی خطرناک تھا، جس میں ربڑ بوٹس استعمال کرنا ممکن نہیں تھا۔ ٹیم نے مقامی طور پر تیار کردہ ٹیوبز کا استعمال کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن شروع کیا، اور موجود چار افراد میں سے تین کو بچا لیا گیا۔ باقی افراد اس وقت تک پانی میں بہہ چکے تھے۔

شاہ فہد نے واضح کیا کہ ریسکیو ٹیموں کے پاس مطلوبہ سازوسامان اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے، تاہم قدرتی آفات جیسے فلیش فلڈز کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے ہیلی کاپٹر کی درخواست نہیں کی گئی، اگر پی ڈی ایم اے نے کی ہو تو اس حوالے سے انہیں علم نہیں۔

ڈی جی ریسکیو نے بتایا کہ سوات ڈسٹرکٹ میں ریسکیو کے چھ سے آٹھ اسٹیشنز فعال ہیں اور ہر اسٹیشن پر بوٹس موجود ہیں۔ پانچ ماہر غوطہ خور بھی مختلف اسٹیشنز پر تعینات ہیں جبکہ مقامی رضا کار بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پانی کے بے رحم ریلے اور قلیل وقت کے باعث زیادہ جانیں نہیں بچائی جا سکیں

Scroll to Top