سوات : انجینئر امیر مقام سے منسوب ہوٹل کی حدود پر افسران میں اختلافات

سوات (نوید شہزاد)سوات میں جاری تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے منسوب ہوٹل پر انتظامیہ سر جوڑ کر بیٹھ گئی۔

ضلعی انتظامیہ نے اس معاملے پر خصوصی اجلاس طلب کیا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار، پٹواری اور ٹی ایم اے کے آرکیٹیکٹ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ہوٹل کی حدود کے حوالے سے سرکاری افسران کی آراء میں شدید اختلاف پایا گیا۔ کچھ اہلکاروں نے ہوٹل کو تجاوزات میں شامل قرار دیا، جبکہ ٹی ایم اے کے آرکیٹیکٹ اور چند دیگر افسران نے اسے تجاوزات سے باہر قرار دیا۔

اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ پیمائش کے دوران افسران دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق، بالآخر ہوٹل کے ریمپ اور صحن کی حدود کا تعین کر دیا گیا، اور انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ تقریباً ایک لاکھ مربع فٹ اراضی دریائے سوات کی حدود میں شامل ہے۔ اس بنیاد پر ہوٹل کی باؤنڈری وال، صحن اور ریمپ کو تجاوزات قرار دے کر منہدم کر دیا جائے، جبکہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ہوٹل کی مرکزی عمارت تجاوزات میں شامل نہیں۔

سوات میں جاری آپریشن سیاسی اثر و رسوخ اور انتظامی تقسیم کی نشاندہی کر رہا ہے، جو تجاوزات کے خلاف آپریشن کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پشاور ہائی کورٹ نےخواتین کےبیوٹی کلینک پر غیر قانونی چھاپے پر اسسٹنٹ کمشنر کی سرزنش کردی

مقامی افراد اور ہوٹل مالکان کا مطالبہ ہے کہ کارروائی بلا تفریق ہو، چاہے وہ کسی عام شہری کا ہوٹل ہو یا کسی وزیر ہو لیکن قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

Scroll to Top