اگر جمہوریت بچتی ہے تو نشست چھوڑنے کو تیار ہوں، ایمل ولی خان

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ہارس ٹریڈنگ کو مسترد کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ مخصوص نشستوں سے متعلق حالیہ فیصلے 8 فروری کے انتخابی نتائج کی حقیقی عکاسی نہیں کرتے۔

اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے نے پارلیمنٹ کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی نشست چھوڑنے سے یہ فیصلہ واپس ہو سکتا ہے تو وہ لمحے کی دیر نہیں کریں گے، کیونکہ ایک نشست کا فائدہ ہوا لیکن جمہوریت کو نقصان پہنچا۔

دوسری جانب اے این پی نے مخصوص نشستوں کی تقسیم سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن اور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این پی کو عام انتخابات میں ایک نشست ملی جس پر ایک مخصوص نشست دی گئی، تاہم باجوڑ کے ضمنی انتخاب میں پارٹی کو دوسری جنرل نشست بھی حاصل ہو چکی ہے، اس لیے اے این پی کو خواتین کی ایک اور مخصوص نشست بھی دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے اندر جھگڑوں کو اندرونی ناکامی سمجھتا ہوں،تیمورجھگڑا

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ صوبائی اسمبلی میں اے این پی کی مجموعی دو نشستیں ہیں، اس لیے اسے دو مخصوص نشستیں دی جائیں۔

Scroll to Top