اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پیر کے روز موسلا دھار بارش نے نظامِ زندگی کو متاثر کر دیا۔
بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی صورتحال پیدا ہو گئی جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا سسٹم گزشتہ رات شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت سمیت پشاور، ایبٹ آباد، سوات اور مانسہرہ میں شدید بارشیں ہوئیں۔
اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے اور جناح ایونیو سمیت اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہو گیا، جس سے صبح کے اوقات میں ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوئی۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی ایمرجنسی ٹیموں کو نکاسی آب کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ضلعی انتظامیہ نے دریاؤں کے کنارے اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ریسکیو 1122 کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور متعلقہ اداروں کو صورتحال کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعدد علاقوں میں بجلی کی بندش اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا اور شمال مشرقی پنجاب میں فلیش فلڈنگ (اچانک سیلاب) کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔





