عوامی نیشنل پارٹی کا 26جولائی کو پشاورمیں قومی امن جرگہ بلانے کا اعلان

پشاور :عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی )خیبرپختونخوا کے صدرمیاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مولانا خان زیب کے قاتل تاحال گرفتار نہیں کیے جا سکےحالانکہ جائے واردات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے اور عینی شاہدین نے قاتلوں کو دیکھا تھا۔

باچا خان مرکز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس مقام پر مولانا کو قتل کیا گیاوہاں سیکیورٹی اداروں کے دفاتر بھی قائم ہیں اس کے باوجود مجرموں کی عدم گرفتاری کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ مولانا خان زیب کا ایجنڈا امن اور جمہوریت تھا، وہ کس راستے میں رکاوٹ تھا؟ کیا ہم اپنے شہداء کو یوں ہی فراموش کر دیں؟

اے این پی رہنما نے خیبر پختونخوا کی مجموعی امن و امان کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور وزیر اعلیٰ کے آبائی علاقے میں بھی حکومتی رٹ قائم نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی صوبے میں فیض حمید کی پالیسیاں چل رہی ہیں، جو اب تک سزا سے محفوظ ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ فیض حمید کس کے آنکھوں کا تارا تھا؟

میاں افتخار حسین نے کہا کہ باجوڑ میں دہشتگرد کیوں ختم نہیں کیے جا رہے؟ پنجاب میں 72 دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں لیکن کارروائی قبائلی علاقوں میں کی جاتی ہے۔

انہوں نے آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ نہ علاقہ چھوڑیں گے اور نہ آپریشن قبول کریں گے۔

اے این پی رہنما نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ نے ہمیں کھل کر انتخابات میں ہرایا، گزشتہ تین عام انتخابات میں نتائج تبدیل کیے گئے،ہم وہ جماعت ہیں جس نے دہشتگردوں کے خلاف نہ صرف کامیاب مذاکرات کیے بلکہ آپریشن میں بھی صف اول کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ 26 جولائی کو قومی امن جرگہ بلایا گیا ہےجو باچا خان مرکز پشاور میں صبح دس بجے منعقد ہوگا، جس میں تمام مکتبہ فکر اور خصوصی طور پر ضم شدہ اضلاع کےلوگوں کو خصوصی طور پر اس جرگے میں شرکت کی دعوت دی جائیگی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا اسمبلی، خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پرگرپال سنگھ بلامقابلہ ،شاہدہ وحید ٹاس کے ذریعے منتخب

انہوں نے کہا کہ یہ اے این پی کی ذاتی لڑائی نہیں بلکہ پوری قوم کی بقا کی جنگ ہے،تمام سیاسی جماعتوں کو امن کے لیے متحد ہونا ہو گا۔

Scroll to Top