سیف اللہ جھیل کشتی حادثے کی انکوائری رپورٹ جاری،ذمہ داروں کا تعین کر لیا گیا

شہزاد نوید
سوات کی مشہور سیف اللہ جھیل میں یکم جولائی کو پیش آنے والے افسوسناک کشتی حادثے کی انکوائری رپورٹ خیبر پختونخوا حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے جس میں متعدد سرکاری اداروں کو فرائض میں غفلت برتنے کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے سات افراد کی جان لینے والے اس حادثے کی تفصیلی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ حکومت کو پیش کی ہے جس میں انتظامی کوتاہیوں کی کھل کر نشاندہی کی گئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں پولیس، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ٹورازم اتھارٹی، ٹی ایم ایز اور محکمہ انڈسٹریز سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت سوات میں دفعہ 144 نافذ تھی اور جھیل میں کشتی رانی اور نہانے پر سخت پابندی عائد تھی لیکن پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔

ایک حیران کن انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پولیس نے پابندی کی خلاف ورزی پر 103 مقدمات تو درج کیے لیکن یہ تمام مقدمات صرف نہانے اور تیرنے والوں کے خلاف تھے جبکہ غیر قانونی کشتی رانی کے خلاف ایک بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں عملے کی حاضری اور ریسکیو کے ناقص انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ حادثے کے روز ٹورازم پولیس کے 37 میں سے 17 اہلکار چھٹی پر تھے جبکہ ہنگامی صورتحال میں مدد کے لیے آنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچنے اور واپسی کے دوران دو مرتبہ خراب ہوئی۔

اس کے علاوہ کالام کے ہسپتال میں انتظامیہ کی لاپروائی اس وقت سامنے آئی جب جاں بحق ہونے والے افراد کا معائنہ کرنے کے لیے کوئی خاتون ڈاکٹر بھی ہسپتال میں موجود نہیں تھی۔

انکوائری کمیٹی نے مستقبل میں ایسے لرزہ خیز حادثات سے بچنے کے لیے حکومت کو اہم سفارشات پیش کی ہیں۔

کمیٹی نے زور دیا ہے کہ جھیل میں چلنے والی تمام کشتیوں کی رجسٹریشن فی الفور لازمی قرار دی جائے اور کسی بھی غیر رجسٹرڈ کشتی کو پانی میں جانے کی اجازت نہ دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں : نادرا کا خیبرپختونخوا کے شہریوں کےلیے بڑا اقدام، اہم سہولت کا آغاز

اس کے علاوہ تفریحی مقامات پر دفعہ 144 پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور ہر کشتی میں سیاحوں کے لیے لائف جیکٹس کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

Scroll to Top