خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب 25 ارکان نے آج گورنر فیصل کریم کنڈی کی موجودگی میں حلف اٹھا لیا۔
گورنر ہاؤس میں تقریب حلف برداری میں نو منتخب اراکین نے آئین کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی کے طور پر حلف اٹھایا۔
نو منتخب اراکین میں جمیعت علما اسلام (جے یو آئی) کے 9، مسلم لیگ ن کے 8 اور پاکستان پیپلز پارٹی کے 5 ارکان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے 2 اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پی کے کے ایک رکن نے بھی مخصوص نشستوں پر حلف اٹھایا، مخصوص نشستوں میں شامل 25 اراکین میں سے 21 خواتین اور 4 اقلیتوں کے نمائندگان ہیں۔
جے یو آئی کے 7 خواتین اور 2 اقلیت کے ارکان نے حلف لیا جبکہ مسلم لیگ نون کے 7 خواتین اور ایک اقلیتی رکن نے بطور رکن صوبائی اسمبلی حلف اٹھایا، پیپلز پارٹی کے 4 خواتین اور ایک اقلیت کے رکن نے بھی تقریب میں شرکت کی، عوامی نیشنل پارٹی کی دو اور پی ٹی آئی پی کی ایک خاتون رکن نے بھی حلف برداری کی۔
آج صوبائی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کیا گیا جس کے بعد اپوزیشن ارکان پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئے۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے گورنر کو حلف لینے کا خصوصی اختیار سونپ دیا تھا جس کے بعد گورنر ہاؤس میں حلف برداری کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
حلف آئین پاکستان کے آرٹیکل 65 اور آرٹیکل 255(2)، نیز خیبرپختونخوا پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس رولز 1988 کے رول 6 کے تحت لیا گیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب نومنتخب اراکین نے حلف اٹھانے کے بعد حاضری رجسٹر میں بھی دستخط کر دیئے ہیں۔
نومنتخب اراکین کی حاضری میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور اقلیت کے نمائندے شامل ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین میں فرح خان، آمنہ سردار، فائزہ ملک، شازیہ جدون، افشا حسین، جمیلہ پراچہ، سونیا حسین اور سریش کمار شامل ہیں۔
جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے بلقیس، ستارہ آفرین، ایمن جلیل جان، مدیحہ گل افریدی، رابعہ شاہین، نیلو فر بیگم اور ناہید نور نے بھی حاضری رجسٹر میں دستخط کیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے شازیہ طہماس، ساجدہ تبسم، مہر سلطانہ، آسبر جان جدون اور فرزانہ شیرین شامل ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف پی کے (پی ٹی آئی پی) کی نادیہ شیر اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی خدیجہ بی بی اور شاہدہ وحید نے بھی حاضری رجسٹر میں دستخط کیے۔
اقلیت کے چار نمائندے بھی نومنتخب ارکان میں شامل ہیں جن میں جے یو آئی سے عسکر پرویز اور گرپال سنگھ، مسلم لیگ ن سے سریش کمار اور پیپلز پارٹی سے بہاری لعل شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات پی ٹی آئی کے لیے بڑا امتحان، پارٹی اختلافات برقرار
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بھرپور مزاحمت کے باوجود آئین اور قانون نے اپنا راستہ نکالا ہے اور آج کی یہ تقریب نہ صرف جمہوریت کی جیت بلکہ آئینی عمل کی فتح قرار دی جا رہی ہے۔





