اسپیکر خیبر پختونخوا نے سازش کے تحت ارکان کو حلف برداری سے روکا، طلال چودھری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے الزام عائد کیا ہے کہ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے جان بوجھ کر نو منتخب ارکان کو حلف برداری سے روکا، تاکہ سینیٹ انتخابات پر اثر ڈالا جا سکے۔

انہوں نے اس اقدام کو ایک سیاسی سازش قرار دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں کورم کا مسئلہ دانستہ طور پر پیدا کیا گیا، جس کا مقصد سینیٹ انتخابات میں مخصوص نتائج حاصل کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ بندی تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے کی گئی، تاکہ جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا جا سکے۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اپنی سیاسی اور قانونی غلطیوں کا فائدہ دیگر جماعتوں کو ہوا، اور کورم جان بوجھ کر پورا نہیں کیا گیا، جس کے باعث اجلاس ملتوی ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات سے متعلق خیبرپختونخوا میں موجودہ سیاسی بحران تحریک انصاف کی پیدا کردہ صورتحال ہے۔طلال چودھری نے آئینی پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ اور صوبائی اسمبلی کو نامکمل رکھنا غیر آئینی عمل ہے۔

اسمبلی اجلاس میں ارکان کو شرکت سے روکنا آئینی خلاف ورزی ہے، جس کی کڑی سزا ہونی چاہیے۔انہوں نے تحریک انصاف پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ آپ کروڑ پتی افراد کو سیٹیں بیچتے ہیں، بولی لگتی ہے اور بعد میں پارٹی کے اندر سے خود شور اٹھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نو منتخب اراکین سے حلف لینے کا معاملہ: اسپیکر نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے خلاف چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ دیا

یہ سیاسی منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟وزیر مملکت نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ سیاسی سودے بازی کے ذریعے فیصلے کرواتے رہے ہیں، اور خیبرپختونخوا میں بولی لگا کر سیٹیں دینے کا کلچر عام ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق سینیٹ کو مکمل ہونے سے روکنا ایک سنگین آئینی جرم ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار ختم کرنا چاہتی ہے، جبکہ کوہستان اسکینڈل کو پاکستان کے بڑے کرپشن کیسز میں شمار کرتے ہوئے اسے مثال کے طور پر پیش کیا۔

Scroll to Top