گنڈاپور کی قیادت میں قافلہ پرامن لاہور پہنچا، عوام کا والہانہ استقبال، شوکت یوسفزئی

9 مئی کیسز پر پارٹی رہنماؤں کے مختلف بیانات، سیاسی کشیدگی برقرار

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق وزیر شوکت یوسفزئی نے پارٹی میں ڈسپلن کی کمی کا اعتراف کر دیا، وقتی ناراضگی پر پارٹی کی بدنامی ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

24 نیوز کے پروگرام میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہوئے سینیٹ انتخابات پر گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کچھ امیدواروں کی ناراضگی کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچا اور اپوزیشن کو پروپیگنڈا کا موقع ملا، تاہم ووٹ تمام نامزد امیدواروں کو ملے۔

9 مئی کے واقعات اور سزاؤں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کو دہشتگرد ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے اصل دہشتگردوں کی گرفتاری مشکل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی پارٹی نے 9 مئی کے واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔

پروگرام میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ہارون نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ بانی پی ٹی آئی کے ذہنیت کا نتیجہ ہے اور پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرے۔

یہ بھی پڑھیں : ملک احمد خان بچھر نے 9 مئی کیس کی سزا ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما عابد شیر علی نے کہا کہ جلسہ کرنا ہر جماعت کا حق ہے، لیکن جلسہ کے بہانے انتشار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی کو عدالتوں سے ریلیف ملتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

Scroll to Top