پشاور:خیبر پختونخوا بھر میں 4 اگست کو یومِ شہدائے پولیس عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا گیا جس کا مقصد اُن پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا جنہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔
مرکزی تقریب پشاور میں منعقد ہوئی جس میں وزیرِ اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس فورس کی لازوال قربانیوں اور جرات کو سراہا۔
یومِ شہدائے پولیس کی 11ویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں نے دہشت گردی کے اندھیروں کو امید کی روشنی میں بدل دیا۔
انہوں نے کہاکہ آزادی، شہادت اور بہادری کا جذبہ خیبر پختونخوا کے عوام اور فورس کے لہو میں رچا بسا ہے۔
آئی جی پی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا پولیس کا ہر افسر اور جوان اپنی آخری سانس تک قوم کی خدمت بہادری سے کرتا رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 4 اگست ہمیں ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو امن کی خاطر دی گئیں، اور اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم اپنے شہداء کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
آئی جی پی نے کہاکہ شدید چیلنجز کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس نے کبھی بھی کسی چوکی یا محاذ کو خالی نہیں چھوڑا۔ وہ ہر محاذ پر دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہی۔
انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں فورس کی اصل طاقت قرار دیا۔
ان کا کہنا تھاکہ آپ کے پیاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس قوم کو زندگی بخشی۔ آپ اکیلے نہیں، آپ کا دکھ ہمارا دکھ ہے۔
آئی جی پی نے شہداء کے اہل خانہ کے مسائل کے حل کے لیے نئی ویلفیئر ایپس کے اجرا کا اعلان بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں : آسان اقساط پر اسمارٹ فونز فراہمی ،حکومت کی نئی پالیسی
آئی جی پی نے صوبائی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود پولیس فورس کو جدید اسلحہ اور گاڑیوں سے لیس کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ شہداء کے لیے معاوضے کے پیکیج کو بڑھا کر 1 کروڑ 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے خاندانوں کے لیے بھرتی کا کوٹہ 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔





