غیرقانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، ملک بدری کا عمل تیز، دستاویزات کی جانچ شروع

چمن شہر میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ لیویز حکام کے مطابق یہ کارروائی وفاقی حکومت کی ہدایات پر کی جا رہی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں بغیر قانونی حیثیت کے مقیم افغان مہاجرین کی موجودگی کا خاتمہ ہے۔

نجی ٹی وی چینل (سما نیوز)کے مطابق چمن کے مختلف علاقوں میں لیویز فورس نے رات گئے چھاپے مارے، جہاں افغان باشندوں کے شناختی کارڈز اور پی او آر کارڈز کی جانچ پڑتال کی گئی۔ حکام کے مطابق پی او آر کارڈ رکھنے والے مہاجرین کو بھی سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد پاکستان چھوڑ کر واپس افغانستان چلے جائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر چمن نے واضح کیا ہے کہ افغان پاسپورٹ اور پاکستانی ویزہ کے بغیر کسی بھی افغانی کو پاکستان میں رہائش کی اجازت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیویز اور پولیس فورسز مشترکہ کارروائیاں کر رہی ہیں، اور جہاں کہیں بھی افغان یا دیگر غیر ملکی افراد غیرقانونی طور پر مقیم پائے جا رہے ہیں، انہیں گرفتار کرکے ملک بدر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق وفاقی و صوبائی حکومت کی پالیسی پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں غیرقانونی مہاجرت پر قابو پایا جا سکے۔ لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن آئندہ دنوں میں مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top