محمود خان اچکزئی کی بطوراپوزیشن لیڈر تقرری ،اندورنی کہانی سامنے آگئی

آئیں ہم سب توبہ کریں اور ایک دوسرے کو معاف کریں، محمود خان اچکزئی

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران زور دیا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے سب کو خود احتسابی، معافی اور مفاہمت کی راہ اپنانی چاہیے۔ انہوں نے کہا’’آئیں ہم سب توبہ کریں اور ایک دوسرے کو معاف کریں۔‘‘

قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی حیثیت ایوان کے نگہبان (کسٹوڈین) کی ہوتی ہے، لیکن جب ممبران کو ایوان سے کھینچ کر نکالا جائے تو پھر یہ حیثیت باقی نہیں رہتی۔ محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ اگر اسپیکر واقعی کسٹوڈین کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس معاملے پر ایوان میں بحث کرائیں اور ان عناصر کو نکالیں جو ارکانِ اسمبلی کو اپنے منتخب نمائندوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دیتے۔

انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو ملک کا ’’سب سے مقبول لیڈر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا آئینی و جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے جواب دیا کہ سب کو بیٹھ کر بات کرنا ہوگی اور اگر پروڈکشن آرڈر کی بات ہے تو گزشتہ ساڑھے چار سال کا ریکارڈ نکال کر سامنے لایا جائے تاکہ حقائق واضح ہوں۔ انہوں نے محمود اچکزئی کو بات چیت کا آغاز کرنے کی دعوت بھی دی۔

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ ’’آئین کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں، اور پیپلز پارٹی اس میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔‘‘
انہوں نے ایوان میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف قرارداد پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے جایا جائے۔

آخر میں انہوں نے نئی سیاسی سمت اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں تمام اہم فیصلے ایوان کے اندر ہوں، صوبوں کو ان کے وسائل کا مکمل اختیار دیا جائے، اور اگر حالات خانہ جنگی کی طرف گئے تو اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت، بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف پر عائد ہو گی۔

Scroll to Top