پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج، ریحانہ ڈار اور 6 اراکین پنجاب اسمبلی گرفتار

پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج، ریحانہ ڈار اور 6 اراکین پنجاب اسمبلی گرفتار

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے بانی جماعت عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر یومِ احتجاج جاری ہے۔ اس دوران لاہور میں پی ٹی آئی رہنما ریحانہ ڈار سمیت پنجاب اسمبلی کے 6 اراکین کو حراست میں لے لیا گیا۔

پنجاب پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت آئی ہے۔ ریحانہ ڈار کو ایوانِ عدل کے باہر سے گرفتار کیا گیا جبکہ گرفتار ہونے والے اراکین اسمبلی میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی بھی شامل ہیں۔

احتجاج کے سلسلے میں پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ریلی نکالی جائے گی، جو رنگ روڈ سے شروع ہوکر قلعہ بالا حصار پر اختتام پذیر ہوگی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن عامر ڈوگر نے ایوان میں گرفتاریوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا ساتھ دینے پر ارکان کو سزائیں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا’’یہ ایوان کٹھ پتلیوں کا تماشا بن چکا ہے، آئینی اور پارلیمانی اقدار پامال ہو رہی ہیں۔‘‘

ادھر پی ٹی آئی قیادت نے اپنے تمام قومی اسمبلی اراکین کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے، جہاں احتجاج کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی۔

سینئر سیاستدان اور سابق رہنما جاوید ہاشمی نے بھی پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’5 اگست کا احتجاج پارٹی کا جمہوری حق ہے، جس کا مقصد ملک میں آئینی بالادستی اور جمہوریت کا دفاع ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا’’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کی بنیاد رکھیں، جہاں عوام کی رائے مقدم اور پارلیمان بااختیار ہو۔‘‘

تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرے دیگر شہروں میں بھی جاری ہیں، جبکہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

Scroll to Top