وفاقی دارالحکومت میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ مرکزی دروازے کو زنجیر اور تالے لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس، ایف سی اور اینٹی رائٹ فورس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اور ذرائع کے مطابق اہم سیاسی شخصیات کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی چینل (ایکسپریس نیوز) کے مطابق، آج قومی اسمبلی اجلاس کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ایوان میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اجلاس کے دوران جہاں ’’یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ کی قرارداد منظور کی گئی، وہیں پی ٹی آئی ارکان نے خطاب کے بعد اڈیالہ جیل کی جانب مارچ کرنے کا اعلان بھی کیا۔
پی ٹی آئی رکن عامر ڈوگر نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا’’آپ نے ہمارے اراکین کو 10، 10 سال کی سزائیں دے دیں، ایوان کے 10 ارکان کو اٹھایا گیا، مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔’’اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے پروڈکشن آرڈر جاری کیے اور کشمیر سے متعلق قرارداد پر توجہ دینے کی اپیل کی۔
اجلاس کے اختتام کے بعد اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سلمان اکرم راجا اور لطیف کھوسہ نے اڈیالہ جیل کی جانب روانگی اختیار کی، جہاں پی ٹی آئی کے کارکنان نے احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا۔ تاہم ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے چند ارکان نے جیل مارچ میں شرکت سے اجتناب کا مشورہ دیا۔
اسی دوران پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی، اور داخلی دروازے کو زنجیروں اور تالوں سے بند کر دیا گیا۔ پولیس، ایف سی، قیدی وینز اور اینٹی رائٹ یونٹس پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر تعینات ہیں، جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بعض ارکانِ اسمبلی کی گرفتاری کا قوی امکان ہے۔
موجودہ سیاسی ماحول مزید کشیدگی کی جانب بڑھ رہا ہے، اور حکومت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ ہنگامہ آرائی یا سکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔





