پشاور کا نقشہ بدلنے کو ہے، سیف سٹی پراجیکٹ نے سب کی توجہ حاصل کر لی

پشاور :انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کی خصوصی ہدایت پر پشاور میں سیف سٹی پراجیکٹ پر کام غیر معمولی تیزی سے جاری ہے۔

چھ ماہ کی مختصر مدت میں مکمل ہونے والے اس منصوبے کے تحت اب تک شہر کے 125 اہم مقامات پر ہائی ریزولوشن کیمروں کی تنصیب کے لیے تعمیراتی کام شروع ہوچکا ہے، جس میں کھدائی، کنکریٹ بھرنا اور پولز کی تنصیب شامل ہیں۔

یہ کیمرے 30 دن تک تمام ریکارڈ محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس منصوبے کو رواں سال اکتوبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔

اس کا بنیادی مقصد پشاور میں شدت پسندوں اور دیگر جرائم کی مؤثر روک تھام کرنا ہے تاکہ شہر میں امن و امان کو بہتر بنایا جا سکے۔

انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کی سفارشات پر صوبائی حکومت نے طویل التوا کا شکار اس پراجیکٹ کی منظوری دی اور گزشتہ ماہ اس پر کام کا آغاز ہوا۔

اس کے علاوہ دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں بھی سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے سروے مکمل ہو چکا ہے۔

ان اضلاع میں 11 اگست 2025 کو کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، جہاں ڈی آئی خان میں 86، بنوں میں 83، اور لکی مروت میں 41 اہم مقامات پر کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : بانی پی ٹی آئی کے لیے معافی کی پیشکش، حکومت کی سنجیدہ شرائط سامنے آ گئیں

پشاور میں اب تک 105 اہم مقامات پر پولز لگانے کے لیے کھدائی، کنکریٹ ڈالنے اور اسٹیل فکسنگ کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے، خاص طور پر حیات آباد جیسے پوش علاقوں میں پولز کی تنصیب کا عمل زوروں پر ہے۔ اب تک کھدائی کا 78 فیصد اور پولز کی اسٹیل فکسنگ کا 67 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ نیٹ ورک پورے صوبے میں نافذ کیا جائے گا تاکہ عوام کو پرامن ماحول میں کاروبار اور روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینے کا موقع ملے اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

یہ میگا پراجیکٹ سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوگا اور پشاور کو ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Scroll to Top