بانی پی ٹی آئی کے لیے معافی کی پیشکش، حکومت کی سنجیدہ شرائط سامنے آ گئیں

اسلام آباد : وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اپنے جرائم پر معافی مانگیں تو حکومت ان کے لیے سزا معاف کرنے پر غور کر سکتی ہے۔

رانا احسان افضل نے نجی ٹی وی ڈان نیوز کے پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان صدر مملکت کو تحریری معافی نامہ جمع کرائیں تو ان کی سزا معاف کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے دائرہ کار میں رہ کر یہ ممکن ہے اور حکومت کے پاس اس کے علاوہ سزا معاف کرنے کا کوئی اور اختیار نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان پر لگائے گئے الزامات عدالت میں ثابت ہو چکے ہیں، تاہم معافی نامے کی بنیاد پر معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

رانا احسان افضل نے کہا کہ 9 مئی کے احتجاج کے بعد دی گئی سزا کے باوجود سیاسی مکالمے کے دروازے بند نہیں ہوئے ہیں اور قومی ایجنڈے پر بات چیت ضروری ہے۔

معاون خصوصی نے عمران خان پر موجودہ سیاسی تقسیم کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر قومی امور پر بات کر سکتی ہیں، لیکن صرف پی ٹی آئی ہی بین الجماعتی مکالمے سے انکار کرتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری نے بھی کہا کہ حکومت اور صدر مملکت کے پاس آئینی طور پر عمران خان کی سزا ختم کرنے اور معافی دینے کا اختیار موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مستونگ: سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ،میجرسمیت تین جوان شہید، چار دہشتگرد ہلاک

انہوں نے کہا کہ ریاست کے پاس مقدمات بنانے اور واپس لینے دونوں کے اختیارات موجود ہیں، لیکن یہ سب مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور اور کراچی میں پی ٹی آئی کارکنوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر تحریک کے تحت احتجاج کیا، جس پر پولیس نے متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔

تاہم راولپنڈی اور اسلام آباد میں پارٹی قیادت بڑے اجتماعات منعقد کرنے میں ناکام رہی، کیونکہ پولیس نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالنے کی کوشش کرنے والے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔

Scroll to Top