سوات:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایات پر سوات کے علاقے ملوک آباد میں بیٹھ جانے والی زمرد کی کان میں جاری ریسکیو 1122 کا آپریشن فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
واقعہ کے بعد شروع ہونے والا ریسکیو آپریشن اس وقت 900 فٹ گہری کان میں بھرپور انداز سے جاری ہے، جہاں چار مزدور زندہ پھنسے ہوئے ہیں۔ ریسکیو اہلکار اب تک 880 فٹ گہرائی تک پہنچ چکے ہیں، اور وہاں سے پھنسے ہوئے مزدوروں کی جانب سے سگنلز موصول ہونے کی اطلاعات ہیں، جس سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔
ریسکیو1122 سوات کے 40 سے زائد تربیت یافتہ اہلکار دن رات اس پیچیدہ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اہلکاروں میں فائرفائٹرز، ڈیزاسٹر ریسکیورز اور میڈیکل ٹیکنیشنز شامل ہیں، جو چار چار کے گروپ بنا کر شفٹوں میں کام کر رہے ہیں تاکہ تھکن کے بغیر مسلسل پیش رفت ممکن ہو۔
آپریشن کی تکنیکی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریسکیو 1122 نے بونیر، پشاور اور نوشہرہ سے چھ ماہر مائن ریسکیو اہلکاروں کو طلب کیا ہے، جو جدید آلات اور مکمل حفاظتی تدابیر کے ساتھ کان کے اندر کام کر رہے ہیں۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ مزدوروں کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب مہارتیں اور وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچاؤ کے لیے آپریشن کو انتہائی احتیاط اور منصوبہ بندی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سوات میں زمرد کی کان بیٹھنے کا واقعہ، ریسکیو آپریشن جاری
ریسکیو1122 سوات کے ترجمان بلال احمد فیضی نے قوم سے اپیل کی ہے کہ مزدوروں کی بخیریت واپسی کے لیے دعا کریں۔ ہمارے اہلکار زندگی کی بازی لگا کر تاریکی میں امید کا چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔
ادھر عوام کی بڑی تعداد بھی مزدوروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے دعاؤں میں مصروف ہے۔ واقعے نے علاقے میں غم اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے مکمل امدادی سرگرمیوں کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔





