نو منتخب سینیٹر مشال یوسفزئی کو پشاور ہائیکورٹ سے عبوری ریلیف مل گیا، عدالت نے 13 اگست تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے نو منتخب سینیٹر مشال یوسفزئی کی جانب سے دائر کردہ حفاظتی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 13 اگست تک کسی بھی درج مقدمے میں ان کی گرفتاری سے روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزارہ نو منتخب سینیٹر ہیں اور جلد حلف اٹھائیں گی، عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزارہ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ہیں اور انہیں مختلف نامعلوم مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے جن کی تفصیلات فی الحال واضح نہیں ہیں۔
فیصلے کے مطابق مشال یوسفزئی کو عدالت سے ریلیف ملنے کے بعد وہ متعلقہ عدالتوں میں پیش ہوتی رہی ہیں جسے عدالت نے قابلِ غور قرار دیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بتایا جائے مشال یوسفزئی کن کن مقدمات میں نامزد ہیں، عدالت نے حکم دیا ہے کہ 13 اگست تک انہیں کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: مشال یوسفزئی کا الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ
مشال یوسفزئی 31 جولائی کو ثانیہ نشتر کی خالی ہونے والی نشست پر سینیٹر منتخب ہوئیں لیکن تاحال مشال یوسفزئی کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا۔





