امن معاہدہ، آذربائیجان اور آرمینیا کی طرف سے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دینے کا مطالبہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس پر دونوں ممالک کے سربراہوں نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پشینیان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جہاں دونوں ممالک نے مکمل جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ صدر ٹرمپ نے اس معاہدے پر گواہ کے طور پر دستخط کیے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک بڑی جنگ کی طرف جا رہے تھے مگر انہوں نے ان سے کہا کہ جنگ نہیں بلکہ تجارت کریں۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے رہنماؤں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ اب جنگ نہیں لڑیں گے بلکہ امن اور تعاون کو ترجیح دیں گے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ دونوں ممالک اب تجارت، سیاحت، اور سفارتی تعلقات کو فروغ دیں گے اور ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کا احترام کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے آذربائیجان کے ساتھ فوجی تعاون پر عائد پابندیاں بھی ہٹا دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کمبوڈیا نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کردیا

صدر ٹرمپ نے کہا میں جنگیں نہیں چاہتا، میں امن اور تجارت چاہتا ہوں۔ میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی جنگ بندی کروائی ہے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے اس تاریخی دن کو امن کے لیے نیا راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا آغاز کر رہے ہیں اور دونوں ممالک ذمے داری کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پشینیان نے کہا کہ صدر ٹرمپ پوری دنیا میں امن کے لیے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نوبیل امن انعام کے لیے نامزدگی کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان نے بھی بھارت کے ساتھ جنگ بندی کرانے پر صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔

علاوہ ازیں اسرائیل نے بھی گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ کو اس اعزاز کے لیے نامزد کیا جبکہ کمبوڈیا نے تھائی لینڈ کے ساتھ جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر بھی صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے باقاعدہ طور پر نامزد کیا ہے۔

Scroll to Top