پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما بیرسٹر عمیر نیازی نے بالآخر اس سوال کا جواب دے دیا کہ شیرافضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کس نے کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ یہ فیصلہ سلمان راجہ نے کیا، نہ ہی بیرسٹر گوہر نے، بلکہ یہ براہِ راست بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ تھا۔
نجی ٹی وی چینل (ہم نیوز )سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ حالیہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شیرافضل مروت کی ممکنہ واپسی سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اس حوالے سے پارٹی کے چیف وہب عامر ڈوگر نے بھی واضح طور پر تردید کی ہے۔
عمیر نیازی نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں رواداری کا شدید فقدان ہے، جو جمہوری نظام اور سیاسی مکالمے کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرنا اور تنقید پر ردعمل دینا، سیاست میں مثبت رویوں کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔
شیرافضل مروت، جو پی ٹی آئی کے ایک سرگرم اور متحرک رہنما سمجھے جاتے تھے، پارٹی سے نکالے جانے کے بعد سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ عمیر نیازی کے انکشاف نے اس معاملے پر جاری قیاس آرائیوں کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔





