خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے پشاور، مردان اور سوات میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 900 لیٹر سے زائد مضر صحت دودھ اور 2,000 لیٹر سے زیادہ جعلی اور غیر معیاری مشروبات ضبط کر لیےجبکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق پشاور میں جی ٹی روڈ چمکنی کے قریب کھانے پینے کی اشیاء لے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی۔ موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی مدد سے موقع پر ہی تجزیہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک گاڑی سے 2,000 لیٹر سے زائد جعلی اور غلط لیبل والے کاربونیٹڈ مشروبات برآمد ہوئے جو فوراً ضبط کر لیے گئے۔
سوات میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے شانگلہ کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کے دوران ایک گاڑی کو روکا جو 700 لیٹر سے زائد دودھ لے جا رہی تھی۔ لیبارٹری تجزیے سے معلوم ہوا کہ دودھ میں کیمیکل “فارملین” شامل تھا، جو صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ یہ سارا دودھ موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
مزید برآں، 60 کلو گرام باسی اور غیر معیاری مچھلی بھی برآمد ہوئی جسے فوری طور پر ضائع کر دیا گیا۔
اسی دوران مردان میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر شمسی روڈ پر کارروائی کی۔ موبائل لیبارٹری کی مدد سے دودھ کے نمونے چیک کیے گئے جن میں امونیا اور خشک دودھ (پاؤڈر ملک) کی ملاوٹ پائی گئی جو اسے ناقابلِ استعمال بنا دیتی ہے۔ اس دکان سے 240 لیٹر مضر صحت دودھ برآمد ہوا، جو موقع پر ضائع کر دیا گیا، اور دکان کو سیل کر دیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ تمام خلاف ورزی کرنے والوں پر صحت و صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید کارروائی بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کے اپوزیشن الائنس کا حصہ بنیں گے؟ بیرسٹر گوہر نے وضاحت کر دی
خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظہیر شاہ طورو نے کامیاب کارروائیوں پر ٹیم کو سراہا اور کہا کہ ملاوٹ اور ناقص خوراک کے خلاف مہم مزید تیز کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ “خوراک میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی، عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔





