ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جنوبی تعاون ضروری ہے، یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج بن چکی ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے جنوبی ممالک کے مابین تعاون (South-South Cooperation) ایک مؤثر حکمت عملی ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار ایتھوپیا-پاکستان گرین ڈائیلاگ ایتھوپیا کے تجربات سے استفادہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یہ تقریب او آئی سی کی ذیلی کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی (کامسٹیک) اور جمہوریہ ایتھوپیا کے سفارتخانے کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن یہ ملک ماحولیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

پاکستان کو سیلاب، برفانی جمنے/پگھلنے اور خشک سالی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سیلاب سے جانی نقصان پر چین کا اظہار افسوس، چینی وزیر خارجہ کی اسحاق ڈار سے تعزیت

انہوں نے ایتھوپیا کے گرین لیگیسی انیشی ایٹو کو سراہتے ہوئے اسے جنگلات کی بحالی اور پائیداری کا ایک کامیاب عالمی ماڈل قرار دیا، اور کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا جیسے ممالک کو یکساں ماحولیاتی چیلنجز درپیش ہیں، جنہیں جنوبی تعاون کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے عالمی ماحولیاتی کردار کو بھی اجاگر کیا، جس میں COP27 میں لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے قیام کی حمایت اور COP29 میں ماحولیاتی فنانسنگ کو فروغ دینے کی کوششیں شامل ہیں۔

Scroll to Top