وزیراعظم شہباز شریف اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کے درمیان چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور حالیہ سیلابی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کی حکومت اور عوام اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، ثقافتی اور دینی رشتوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک برادرانہ تعلقات کے مضبوط بندھن میں بندھے ہوئے ہیں اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایس سی او اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور دیگر وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے اور مذاکرات و سفارت کاری ہی خطے میں استحکام اور تنازعات کے حل کا واحد مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پاکستان کے ساتھ ایران کے گہرے تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تہران اسلام آباد کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سماجی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ایران تمام ممکنہ شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کے اگست 2025 میں متوقع دورہ پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک نئی بلندی تک لے جانے کا موقع قرار دیا اور کہا کہ ایرانی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان پر عوام میں خوشی اور گرمجوشی کا ماحول دیکھا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے باہمی روابط کے فروغ، خطے میں امن کے قیام، اور عوامی سطح پر تعاون کو مزید تقویت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔





