پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی ایک اور مضبوط مثال قائم ہو گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم لی چیانگ کے درمیان 4 ستمبر 2025 کو بیجنگ میں ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں ممالک نے نئے منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ مختلف شعبہ جات میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی چینی ہم منصب سے ملاقات بیجنگ میں ہوئی، جہاں وفود کی سطح پر تفصیلی بات چیت کے بعد وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستانی وزیراعظم کے اعزاز میں پروقار ظہرانہ دیا۔ ملاقات کے دوران پاک چین تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور مستقبل میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خود مختاری اور ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان 2 ستمبر کو ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے فیصلوں کے تناظر میں ہمہ موسمی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران 2024 سے 2029 تک کے لیے مشترکہ ایکشن پلان پر دستخط کیے گئے، جسے ایک بڑی سفارتی و اقتصادی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج چین کی مسلسل حمایت سے ہی ممکن ہوئے ہیں۔
اقتصادی شعبے میں تعاون پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے سی پیک کو پاکستان کی ترقی کا محور قرار دیا اور اس کے دوسرے مرحلے (فیز-2) کے تحت پانچ نئی اقتصادی راہداریوں پر مل کر کام کرنے کا اعلان کیا۔ قراقرم ہائی وے، ریلوے لائن-1 کی بحالی اور گوادر پورٹ کو جلد فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم نے بیجنگ میں منعقد ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں 300 پاکستانی اور 500 چینی کمپنیوں کی شرکت کو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کے فروغ کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے زراعت، کان کنی، ٹیکسٹائل، صنعت اور آئی ٹی کو ترجیحی شعبے قرار دیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان جلد ہی چینی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز متعارف کرائے گا، جو مالیاتی شعبے میں ایک نیا باب کھولیں گے۔
شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کے عالمی اقدامات گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو — کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
دونوں ممالک نے 2026 میں پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ شایانِ شان انداز میں منانے پر بھی اتفاق کیا، جو اس تاریخی دوستی کو مزید تقویت دے گا۔
اس ملاقات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان اور چین کی دوستی صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے۔ نئے معاہدے، منصوبے اور پالیسی فیصلے مستقبل کی ترقی کی نوید ہیں۔





