سانحہ سوات کے وقت ائیر ایمبولنس پولوفیسٹول میں وزرا کے اہلخانہ کیلئے استعمال کی گئی، گورنر خیبرپختونخوا

چار ڈیم بنانا بہتر حل ہے، کالاباغ ڈیم کو چھوڑ دیں، گورنر خیبرپختونخوا

ڈی آئی خان : گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کے بجائے چار ڈیم بنانے سے بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔

ڈی آئی خان میں طوفانی بارشوں سے متاثرہ افراد میں امدادی چیکس کی تقسیم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کو سیاسی مسئلہ بنانے کی بجائے سی آر بی سی اور لفٹ کینال کے منصوبوں پر بات چیت کی جائے۔

گورنر نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ناگہانی آفات سے محفوظ رکھے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کی تعریف کی اور کہا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے علیمہ خان کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور سیاستدانوں سے اپیل کی کہ ایک دوسرے کی عزت کریں۔

انہوں نے کہا کہ پہاڑپور کو پولیٹیکل ضلع بنانے کی بجائے عملی طور پر ضلع بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : کالاباغ ڈیم متنازعہ منصوبہ ہے، اے این پی کسی صورت قبول نہیں کرے گی ،میاں افتخار حسین

گورنر نے کہا کہ پیسکو اور ٹیسکو کو صوبائی حکومت کے تحت لانا چاہیے تاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہو سکے۔

انہوں نے پنجاب کی طرف سے گندم کی سپلائی میں تاخیر کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ پنجاب کو گیس اور بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور وفاق کی جانب سے دو ملین روپے کے اعلان کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔

بونیر میں 400 افراد جاں بحق اور کئی غائب ہیں جبکہ سوات اور بونیر کی طرح اس بار کچے کے علاقے میں زمینیں دریا برد ہوئی ہیں۔

Scroll to Top