اڈیالہ جیل کے باہر صحافی طیب بلوچ پر تشدد، علیمہ خان اورنعیم پنجھوتہ سمیت متعددرہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج

راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی میں صحافی طیب بلوچ پر حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجھوتہ، تنویر اسلم، ظفر، ٹوما اور دیگر 40 کے قریب نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 506 ، 147 ، 149 ، 382 اور 427 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

درخواست دہندہ کے مطابق واقعہ اُس وقت پیش آیا جب علیمہ خان میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔ اس دوران نعیم پنجھوتہ نے طیب بلوچ کو نشانہ بنانے کے لیے اکسانے والے جملے ادا کیے، جس کے فوراً بعد متعدد افراد نے صحافی پر حملہ کر دیا۔

طیب بلوچ کو زمین پر گرایا گیا، زد و کوب کیا گیاجبکہ موبائل فون اور مائیک چھیننے کے ساتھ ساتھ دیگر صحافیوں کو بھی گالم گلوچ اور دھکے دیے گئے۔

ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ واقعہ کسی اشتعال میں نہیں بلکہ طے شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر افضل بٹ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے احتجاج کی کال دے دی ہے۔

نیشنل پریس کلب اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے بھی کل شام 4 بجے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چین 3 ہزار پاکستانیوں کو تربیتی اور تعلیمی مواقع فراہم کرے گا

نیشنل پریس کلب کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے باقاعدہ معذرت نہ کی گئی تو بدھ کے روز راولپنڈی پریس کلب، لیاقت باغ اور اڈیالہ جیل کے باہر سمیت ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔

Scroll to Top