پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا، ہراسانی کا ہتھیار بن چکا ہے، خرم دستگیر

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا سوشل میڈیا ایک ہراساں کرنے کا ہتھیار بن چکا ہے، اور صحافیوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے۔

نجی ٹی وی ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اظہارِ خیال کیا۔

خرم دستگیر نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ڈرافٹ پر 15 دن تک تفصیلی بحث ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو جگہ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مخالف ضرور ہیں مگر دشمن نہیں، جمہوری روایات کا تقاضا ہے کہ بات چیت اور دلیل سے معاملات طے کیے جائیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے گفتگو میں کہا کہ سیاست اور صحافت ہمیشہ ایک دوسرے سے جڑے رہے ہیں۔

صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی نہ صرف مذمت ہونی چاہیے بلکہ ان پر معافی بھی مانگی جانی چاہیے۔ پیپلز پارٹی نے کبھی کسی صحافی پر تشدد نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں : اڈیالہ جیل کے باہر صحافی طیب بلوچ پر تشدد، علیمہ خان اورنعیم پنجھوتہ سمیت متعددرہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں انتخابات کبھی بھی مثالی نہیں رہے، لیکن ہم جمہوریت کی بہتری کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔

سینئر سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سخت سوال کرتا ہے تو اس کا جواب دینا سیاستدان کی ذمہ داری ہے۔ غیر رسمی مشاورت کبھی کسی قانونی فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

پروگرام میں شریک تمام رہنماؤں نے آزادیٔ صحافت اور اختلافِ رائے کے احترام کو جمہوریت کا بنیادی ستون قرار دیا اور کہا کہ ان اقدار کے بغیر جمہوری نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

Scroll to Top