صرف ایک ماہ میں 1830 ارب روپے کا قرضہ! شہباز حکومت پر مزمل اسلم کا الزام

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وفاقی حکومت پر سنگین مالی الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صرف ایک ماہ میں شہباز شریف کی حکومت نے 1830 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے۔

قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ )کے مطابق اپنے ایک بیان میں مزمل اسلم نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتحال میں حکومت یہ دعویٰ کیسے کر سکتی ہے کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے؟ ان کے مطابق پاکستان کا مجموعی قرضہ اب 78,000 ارب روپے کے قریب پہنچ چکا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ جب شہباز شریف نے حکومت سنبھالی تھی تو ملک پر کل قرضہ 43,500 ارب روپے تھا، مگر اب سوا تین سال میں یہ 34,500 ارب روپے مزید بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت نے قرضہ لینے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ملک کے مجموعی قرضے میں 79 فیصد اضافہ ہوا ہے۔’’پاکستان نے 75 سال میں جتنا قرض لیا، اس کا 80 فیصد موجودہ حکومت نے صرف تین سالوں میں لے لیا ہے‘‘

مشیر خزانہ نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی مقدار میں قرض لینے کے باوجود تین سالوں میں ملک میں ترقیاتی کاموں کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی۔ ان کے بقول، موجودہ مالی حالت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کو مارکیٹ سے ڈالرز خریدنے پڑ رہے ہیں۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ نہ صرف سرمایہ کاری رک چکی ہے، بلکہ اب تو ملک کو قرض دینے کے لیے بھی کوئی تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نہ صرف معیشت کو کمزور کیا بلکہ قرضوں کے بوجھ تلے عوام کو بھی مزید دبا دیا ہے۔

Scroll to Top