یونیورسٹی آف پشاور میں امن کی فضا، دو ہفتوں کی تربیت نے نئی امید جگائی

رانی عندلیب
پشاور: انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ کانفلکٹ اسٹڈیز (IPCS) یونیورسٹی آف پشاور میں دو ہفتے پر مشتمل تربیتی پروگرام اندرونی ثالثی برائے تنازعہ کے حل اور قیام امن کا اختتام ہوا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و عوامی تعلقات بیرسٹر محمد علی سیف نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔

اختتامی تقریب میں اسلام آباد میں جرمنی کے ناظم الامور مسٹر آرنو کریشہوف، یو این ڈی پی کے ملکی نمائندے ڈاکٹر سیموئل رِٹز، سرکاری افسران، عوامی نمائندگان، جامعات کے اساتذہ اور ملک کے مختلف حصوں سے 25 شرکاء نے شرکت کی۔

پروفیسر جوہر علی نے یو این ڈی پی اور جرمن مہمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرٹیفیکیشن پروگرام کمیونٹی اسٹیبلائزیشن کو فروغ دینے میں ایک اہم قدم ہے جس میں اندرونی ثالثی، مذاکرات اور دستاویزی مہارتوں کی تربیت دی گئی۔

یو این ڈی پی کے سربراہ نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ واپس جا کر اپنے علاقوں میں قیام امن کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے، جبکہ پروفیسر جمیل احمد چترالی نے مضبوط امن نیٹ ورک کی تشکیل پر اعتماد کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں : سوات میں گاڑیوں کی چھتوں پر طلباء بٹھانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

یونیورسٹی آف پشاور کے وائس چانسلر نے یو این ڈی پی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس مشترکہ کوشش سے کمیونٹی اسٹیبلائزیشن کو تقویت ملی ہے۔

تقریب میں شرکاء اور مہمانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور آخر میں اسناد کی تقسیم کے بعد ظہرانے سے تقریب کا اختتام ہوا۔

Scroll to Top