اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا تاریخی دفاعی معاہدہ نیٹو طرز کا ہوگا، جو خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ دفاع کی بنیاد فراہم کرے گا۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ ایک دفاعی شراکت داری ہے، جس میں دیگر عرب ممالک کی شمولیت کے دروازے بھی کھلے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ معاہدے کے تحت اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک پر حملہ کیا گیا، تو دوسرا ملک اس کے دفاع میں شامل ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی مسلح افواج پہلے ہی کئی دہائیوں سے سعودی افواج کو تربیت فراہم کر رہی ہیں، اور یہ معاہدہ اسی دیرینہ تعاون کی باضابطہ توسیع ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مقدس مقامات کا دفاع پاکستان کے لیے ایک مقدس فریضہ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : محکمہ جنگلات نے ہزارہ موٹروے پر قیمتی لکڑی کی سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی
ایٹمی اثاثوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتیں ہمیشہ اصول، احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ بروئے کار لائی جاتی ہیں۔
افغانستان سے دہشتگرد حملوں پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کابل حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم روز جنازے اٹھا رہے ہیں، لیکن افغان حکومت سنجیدہ نہیں۔
یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی روابط کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ خطے میں امن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔





