سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایک جدید مصنوعی ذہانت ماڈل تیار کیا ہے جو مریض کے طبی ریکارڈ کی بنیاد پر ایک ہزار سے زائد بیماریوں کی کئی سال قبل پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈیلفی 2 ایم نامی یہ اے آئی ماڈل چیٹ بوٹس میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اسے حال ہی میں معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں پیش کیا گیا ہے۔
اس اے آئی ماڈل کو برطانیہ کے معروف تحقیقی ڈیٹابیس یو کے بایو بینک کے ڈیٹا پر تربیت دی گئی جس میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کی طبی تفصیلات شامل ہیں، اس کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے اسے ڈنمارک کے قومی صحت ڈیٹابیس سے حاصل کردہ تقریباً 20 لاکھ مریضوں کے ڈیٹا پر آزمایا گیا۔
جرمنی کے کینسر ریسرچ سینٹر سے تعلق رکھنے والے اے آئی ماہر موریٹز گرسٹنگ کا کہنا ہے کہ بیماریوں کے سلسلہ وار ڈیٹا کو سمجھنا بالکل ایسے ہے جیسے کسی زبان کی گرامر سیکھنا۔
انہوں نے کہا کہ بتایا کہ ڈیلفی 2 ایم صحت کی معلومات میں چھپے پیٹرن، تشخیصات کی ترتیب اور ان کے باہمی تعلقات کو سیکھ کر انتہائی مؤثر اور صحت سے متعلق اہم پیش گوئیاں کرنے کے قابل ہے۔
گرسٹنگ نے کہا کہ ماڈل نہ صرف عمومی عوامل بلکہ گہرے طبی ڈیٹا کی بنیاد پر دل کے دورے جیسے امراض کے خطرے کی غیر معمولی درستگی سے نشاندہی کر سکتا ہے چاہے مریض کی عمر یا دیگر عمومی عوامل اس خطرے کو ظاہر نہ بھی کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیلفی 2 ایم فی الحال طبی اداروں میں استعمال کے لیے تیار نہیں ہے اور اس پر مزید تحقیق و آزمائش کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ماڈل کو مزید بہتر بنا لیا جائے تو یہ صحت کی نگرانی، بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور ابتدائی مداخلت کے ذریعے روک تھام پر مبنی طب میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ڈیلفی 2 ایم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک یا چند بیماریوں کی بجائے بیک وقت تمام ممکنہ بیماریوں کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔





