محمداعجازآفریدی
پشاور:خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ساتھ رواں سال بھی سالانہ ترقیاتی پروگراموں کے سلسلے میں سوتیلی ماں جیسا سلوک جاری ہے ۔
رواں مالی سال 2025-25 ءکی پہلی سہ ماہی ختم ہونے ہی والی ہے تاہم دو درجن سے زائد شعبوں کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تاحال ایک روپیہ بھی خرچ نہ ہوسکا جبکہ بیشتر شعبوں کو ابھی تک انیشل ریلیز بھی نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ رواں مالی سال بھی ضم اضلاع کے اے ڈی پی میں شامل بیشتر ترقیاتی منصوبے التواءکا شکار ہوجائینگے ۔
دستیاب شواہد کے مطابق قبائلی اضلاع میں تحصیل اے ڈی پی کے لئے ابھی تک ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا، مائن اینڈ منرل، لائیوسٹاک سمیت قبائلی اضلاع میں ثقافتی سرگرمیوں کے لئے ابھی تک پیسے جاری نہیں ہوئے ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے شعبہ میں مختلف ضم اضلاع میں پولیس سٹیشن کے قیام کےلئے 2 کروڑ 60 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں تاہم ابھی ان میں کوئی ریلیز نہیں ہواہے ۔
ضم اضلاع میں بلڈنگ کے شعبے کے لئے 12 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں لیکن تاحال کوئی ریلیز نہیں ہواہے ،رواں مالی سال 2025-26 ءمیں ضم اضلاع کےلئے ہائیر ایجوکیشن کی اے ڈی پی کی مد میں ایک ارب 50 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے جن میں 27کروڑ 69 لاکھ روپے ریلیز ہوچکے ہیں تاہم ریلیز کے باوجود 15 ستمبر تک اس شعبے میں ترقیاتی کاموں پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہواہے ۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ضم اضلاع کے لئے اے آئی پی کے تحت شامل انصاف روز گارسکیم کےلئے 8کروڑ 10 لاکھ میں سے ایک کروڑ 62 لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں لیکن ترقیاتی اخراجات صفر ہے ، اسی طرح لوکل گورنمنٹ کے لئے مختص شدہ ایک ارب 21 کروڑ روپے میں سے 22 لاکھ روپے ریلیز ہوچکے ہیں لیکن خرچ ایک روپے بھی نہیں ہوا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق15 ستمبر 2025 ءتک فنانس، اپ سکیلنگ آف انفارمیشن، لائیوسٹاک ریسرچ، یوتھ افیئرز، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، اقلیتی امور،ہاؤسنگ اورجیل خانہ جات کے شعبوں پر ایک بھی خرچ نہیں کیا گیا جبکہ ان شعبوں کے لئے فنذز باقاعدہ مختص کئے گئے ہیں اور بیشتر شعبوں کے لئے محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے انیشل ریلیز بھی ہوچکی ہے تاہم اس کے باوجود ان شعبوں پر ابھی تک اخراجات صفر کے برابر ہے ۔
یہ بھی پڑھیں : نصیب کی بات ہے، پنجاب کو مریم نواز ملی، خیبرپختونخوا کو بدر منیر، ایمل ولی خان
اس حوالے سے محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع کو فنڈز باقاعدگی سے جار ی ہورہے ہیں ،فاٹاکے لئے این ایف سی کے 3 فیصد کے حساب سے بننے والے 42 ارب 74 کروڑ کا شیئر بھی قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں جبکہ ان شیئر کا ملنا رواں سال بھی ناممکن نظر آرہاہے جس کی وجہ سے صوبائی حکومت ایسے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے جوکہ قبائلی اضلاع کے لئے زیادہ ضروری ہے اور انہیں بروقت مکمل کیا جائےگا





