پاک سعودی دفاعی معاہدے سے خطے میں امن اور سلامتی کو تقویت ملے گی، اسحاق ڈار

اسلام آباد : نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹرٹیجک دفاعی معاہدہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے، جو کئی ماہ کی محنت اور گفت و شنید کے بعد طے پایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں۔

جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک اس معاہدے پر بہت خوش ہیں، اور یہ معاہدہ خطے میں امن اور سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے سعودی عرب کی حمایت کو پاکستان کے لیے ہر مشکل وقت میں اہم قرار دیا، خاص طور پر آئی ایم ایف کے پروگرام کے دوران سعودی عرب نے بھرپور تعاون کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا کہ پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ خطے میں استحکام اور مضبوط دفاعی تعاون کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتی ہے۔

معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا گیا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے باہمی اعتماد اور دفاعی شراکت داری کو فروغ ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ کی جنگلی حیات کے لیے نئی امید، بلیک بک اور چنکارا چھوڑے گئے، بیرسٹر سیف

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی تاریخی شراکت داری کو مضبوط بنائے گا اور فلسطین و کشمیر کے مظلوم عوام کے حقوق کے لیے اصولی حمایت جاری رکھے گا۔

دریں اثنا مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبد العاطی نے اسحاق ڈار کو ٹیلی فون کر کے دفاعی معاہدے پر مبارکباد دی اور اسے اعتماد اور تعاون کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی و بین الاقوامی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

Scroll to Top